فقہائے اسلام کی آراء میں حرمتِ رسول ﷺ کا تحفظ

نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس مسلمانوں کے لیے ایمان، محبت اور اطاعت کی آخری بنیاد ہے۔ آپ ﷺ کی حرمت وہ چراغ ہے جس کے بغیر امت کی زندگی اندھیروں میں ڈوب جاتی ہے۔ تاریخِ اسلام شاہد ہے کہ ہر دور میں مسلمانوں نے اپنی جان، مال اور اولاد سب کچھ قربان کر دیا لیکن حرمتِ رسول ﷺ پر کوئی سمجھوتہ گوارا نہ کیا۔ فقہائے اسلام نے بھی اس مسئلے کو محض قانونی جرم کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایمان و کفر کی لکیر سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر نے توہینِ رسالت کے احکام میں اپنے اجتہادی آراء پیش کیں۔ ان اختلافات میں وسعتِ فقہ اور تنوعِ فکر کا عکس ملتا ہے، لیکن اصل پیغام ایک ہی ہے رسول اللہ ﷺ کی حرمت سب سے بلند اور مقدم ہے۔

اسلامی شریعت میں نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو ایمان و عقیدہ کی اساس قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح ارشاد ہے

اِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا   (الأحزاب: 57)

بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں، ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ میں توہینِ رسالت ﷺ کو ایمان کے منافی اور سخت ترین جرم قرار دیا گیا ہے۔ مختلف فقہی مکاتبِ فکر نے اس مسئلے پر اپنے اجتہادی آراء پیش کی ہیں جن میں سزا اور توبہ کے امکان پر اختلاف پایا جاتا ہے۔

حنفی موقف

حنفی فقہ میں توہینِ رسالت کو ارتداد کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

اگر مسلمان مرد گستاخی کرے اور توبہ نہ کرے تو سزائے موت دی جاتی ہے۔

مسلمان عورت کی صورت میں اسے قتل نہیں کیا جاتا بلکہ قید کر کے توبہ پر مجبور کیا جاتا ہے۔

غیر مسلم گستاخ کو لازمی طور پر قتل نہیں کیا جاتا، بلکہ قید، جرمانہ یا دیگر تعزیری سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

امام سرخسی (المبسوط، ج 10، ص 110) نے واضح کیا کہ عورت کے قتل کی ممانعت نبی اکرم ﷺ کے عہد میں بھی تھی، جیسا کہ ابوداؤد

(حدیث: 4361) میں وہ واقعہ مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے ایک عورت کے قتل پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ 

مالکی موقف

مالکی فقہ میں اس جرم کو ارتداد سے بھی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔

مسلمان مرد گستاخی کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی، اور فوراً قتل کیا جاتا ہے۔

مسلمان عورت کو قید کیا جاتا ہے اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں وہ عمر بھر قید ہی رہتی ہے۔

غیر مسلم گستاخ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، اور قبول کرنے پر سزا معاف ہو جاتی ہے۔

امام قرطبی (الجامع لأحکام القرآن، ج 8، ص 73) نے کہا

جو شخص نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرے، وہ زندہ رہنے کے لائق نہیں۔

شافعی موقف
شافعی فقہ کے مطابق

گستاخ مسلمان مرد یا عورت کو پہلے توبہ کا موقع دیا جائے گا، بصورتِ دیگر اسے قتل کیا جائے گا۔

غیر مسلم گستاخ کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، اور قبول کرنے پر سزا ساقط ہو جاتی ہے۔

امام نووی (روضۃ الطالبین، ج 10، ص 70) نے واضح کیا:

گستاخِ رسول ﷺ کو توبہ کی پیشکش کی جائے گی، اگر قبول کرے تو سزا ساقط ہوگی۔

حنبلی موقف

حنبلی فقہ میں سب سے زیادہ سختی پائی جاتی ہے۔

چاہے گستاخ مسلمان مرد ہو یا عورت، دونوں کو فوراً قتل کیا جائے گا۔

توبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔

غیر مسلم گستاخ کو اسلام کی دعوت دی جائے گی، ورنہ اسے بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔

امام ابن تیمیہ نے اپنی مشہور تصنیف الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں کئی تاریخی واقعات درج کیے ہیں، مثلاً ایک یہودی شاعر نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو سیدنا عبداللہ بن انیسؓ کو بھیجا گیا، جنہوں نے اسے قتل کیا (سنن ابی داؤد، حدیث: 4361)۔

جعفری موقف
اہلِ تشیع کے نزدیک

گستاخِ رسول ﷺ خواہ مسلمان مرد ہو یا عورت، اس کی سزا قتل ہے۔

غیر مسلم گستاخ کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے، انکار پر قتل کیا جا سکتا ہے۔

بعض شیعہ فقہا نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے، مگر عمومی طور پر سخت سزا پر زور دیا جاتا ہے۔

علامہ حلی (تذکرۃ الفقہاء، ج 2، ص 190) کے مطابق نبی ﷺ یا ائمہ اہلِ بیتؑ کی توہین کرنے والا زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔

غیر مسلم گستاخ کی سزا پر اختلافات
حنفی و شافعی فقہ

لازمی طور پر موت نہیں بلکہ تعزیری سزائیں بھی ممکن ہیں۔

مالکی، حنبلی اور جعفری فقہ

اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کو ترجیح دیتے ہیں۔

واقعہ کعب بن اشرف

یہودی سردار جس نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی اور مسلمانوں کے خلاف سازش کی۔ آپ ﷺ نے محمد بن مسلمہؓ کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔

 (صحیح بخاری: 4037)

واقعہ ابن خطل: فتح مکہ کے موقع پر ابن خطل نامی شخص نے گستاخی کی تھی۔ وہ کعبہ کے پردوں سے لپٹ گیا، لیکن نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اسے قتل کیا جائے۔  (صحیح بخاری: 1846)

حرمتِ رسول ﷺ کے مسئلے میں فقہا کے اختلافات دراصل طریقۂ کار کے ہیں، نہ کہ مقصد کے۔ مقصد سب کے نزدیک ایک ہی ہےامت کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کو محفوظ رکھنا اور ہر گستاخ کو روکنا۔ آج کا مسلمان ان فقہی اختلافات میں الجھنے کی بجائے ان کے اصل پیغام کو سمجھے: حرمتِ رسول ﷺ ایمان کی جان ہے، اور اس کے بغیر امت کی کوئی پہچان نہیں۔

آج جب دنیا بھر میں توہینِ رسالت کے واقعات بڑھ رہے ہیں، تو یہ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ ہم بطورِ امت کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہماری غیرتِ ایمانی وہی ہے جو صحابہ کرامؓ اور تابعین کے دور میں تھی؟ یا ہم نے عشقِ رسول ﷺ کو صرف کتابوں اور نعرے بازی تک محدود کر دیا ہے؟

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے دلوں میں یہ عہد تازہ کریں کہ رسول اللہ ﷺ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، چاہے اس کے لیے جان، مال یا دنیاوی آسائش کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔ 

Write a comment